![]() |
![]() |
|
|
|
ماں جي کي
پيدائش کا صحيح سال معلوم نہيں ہو سکا۔ انہي دنون
پرچہ لگا کہ بار میں کالوني کھل گئي ہے اور نئے آباد کاروں کو مفت زمين
مل رہي ہے۔ نانا جي اپني بيوي ، دو نھنے بيٹوں اور ايک بيٹي کا کنبہ
ساتھ لے کر لائل پور روانہ ہو گئے۔ سواري کي توفيق نہ تھي۔ اس لئے
پاپيا دہ چل کھڑے ہوئے۔ راستے میں محنت مزدوري کر کے پيٹ پالتے۔ نانا
جي جگہ بہ جگہ قلي کا کام کر ليتے يا کسي ٹال پر لکڑياں چير ديتے۔ ناني
اور ماں جي کسي کا سوت کاٹ ديتيں يا مکانوں کے فرش اور ديواريں ليپ
ديتين< لائل پور کا صحيح راستہ کسي کو نہ آتا تھا۔ جگہ جگہ بھٹکتے تھے
۔ اور پوچھ پاچھ کر دنون کي منزل ہفتوں میں طے کرتے تھے۔ انہي دنون بقر عيد کا تہوار آيا۔ نانا جي کے پاس چند روپے جمع ہو گئے تھے۔ انہوں نے مان جي کو تين آنے بطور عيدي ديئے۔ زندگي ميں پہلي بار ماں جي کے ہاتہ اتنے پيسےآئے تھے۔ انہوں نے بہت سوچا ليکن اس رقم کا کوئي مصرف ان کي سمجھ ميں نہ آ سکا۔ وفات کے وقت ان کي عمر کوئي اسي برس کے لگ بھگ تھي۔ ليکن ان کے نزديک سو روپے، دس روپے ، پانچ روپے کے نوٹوں ميں امتياز کرنا آسان کام نہ تھا۔ عيدي کے تين آنے کئي روز ماں جي کے دوپٹے کے ايک کونے ميں بندھے رہے۔ جس روز وہ جڑا نوالے سے رخصت ہو رہي تھيں ماں جي نے گيارہ پيسے کا تيل خريد کر مسجد کے چراغ ميں ڈال ديا۔ باقي ايک پيسہ اپنے پاس رکھا۔ اس کے بعد جب کبھي گيارہ پيسے پورے ہو جاتے وہ فورا مسجد میں تيل بھجوا ديتينں۔ ساري عمر جمعرات کي شام کو اس عمل پر بڑي وضع داري سے پابند رہيں ۔ رفتہ رفتہ بہت سي مسجدوں ميں بجلي آگئي۔ ليکن لاہور اور کراچي جيسے شہروں ميں بھي انہیں ايسي مسجدوں کا علم رہتا تھا جن کے چراغ اب بھي تيل سے روشن ہوتے تھے۔ وفات کي شب بھي ماں جي کے سرہانے ململ کے رومال میں بندھے ہوئے چند آنے موجود تھے۔ غالبا يہ پيسے بھي مسجد کے تيل کے لئے جمع کر رکھے تھے چونکہ وہ جمعرات کي شب تھي۔ |
|||||
| 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 |
![]()