![]() |
![]() |
|
|
|
چک نمبر 507 نانا جي کو خوب راس آيا۔ چند ماہ کي محنت مزدوري کے بعد نئي آباد کاري کے سلسلے ميں آسان قسطوں پر ان کو ايک مربع زمين مل گئي۔ رفتہ رفتہ دن پھرنےلگے اور تين سال ميں ان کا شمار گائون کے کھاتے پيتے لگوں ميں ہونے لگا۔ جون جوں فارغ البالي بڑھتي گئي توں توں آبائي وطن کي ياد ستانے لگي۔ چنانچہ خوشحالي کے چار پانچ سال گزارنے کے بعد سارا خاند ريل می بيٹھ کر منيلہ کي طرف روانہ ہوا۔ ريل کا سفر ماں جي کو بہت پسند آيا۔ وہ سارا وقت کھڑکي سے باہر منہ نکال کر تماشہ ديکھتي رہتيں۔ اس عمل ميں کوئلے کے بہت سے زرے ان کي آنکھوں ميں پڑ گئے جس کي وجہ سے کئي روز تک وہ آشوب چشم ميں مبتلا رہيں۔ اس تجربے کے بعد انہون نے ساري عمر اپنے کسي بچے کو ريل کي کھڑکي سے باہر منہ نکالنے کي اجازت نہ دي۔ ماں جي ريل
کے تھرڈ کلاس ڈبے میں بہت خوش رہتين۔ ہم سفر عورتون اور بچون سے فورا
گھل مل جاتين۔ سفر کي تھکان اور راستے کے گرد و غبار کا ان پر کچھ اثر
نہ ہوتا ۔ اس کے بر عکس اونچے درجوں ميں بہت بيزار ہو جاتين۔ ايک دو
بار جب انہین مجبور ايئر کنڈيشن ڈبے میں سفر کرنا پڑا تو وہ تھک کر چور
ہو گئيں اور سارا وت قيد کي صعوبت کي طرح ان پر گراں گزرا۔ کبھي کبھار پراني يادوں کو توزہ کرنے کے لئے مان جي بڑے معصوم فخر سے کہا کرتي تھيں۔ ان دنون ميرا تو گائوں ميں نکلنا دوبھر ہو گيا تھا ۔ ميں جس طرف سے گزر جاتي لوگ ٹھٹھک کر کھڑے ہو جاتے اور کہا کرتے يہ خيال بخش مربعہ دار کي بيٹي جا رہي ہے ۔ ديکھئے کون سا خوش نصيب اسے بياہ کر لے جائے گا۔ ماں جي آپ کي اپني نطر میں کوئي ايسا خوش نصيب نہیں تھا ہم لوگ چھيڑنے کي خاطر ان سے پوچھا کرتے۔ توبہ توبہ پت ، ماں جي کانون پر ہاتھ لگاتيں ميري نطر میں بھلا کوئي کيسے ہو سکتا تھا۔ ہاں ميرے دل مين اتني سي خواہش ضرور تھي کہ اگر مجھے ايسا آدمي ملے جو دو حرف پڑھا لکھا ہو تو خدا کي بڑي مہر باني ہوگي۔ساري عمر ميں غالبا يہي ايک خواہش تھي جو مان جي کے دل ميں خود اپني ذات کے لئے پيدا ہوئي۔ اس کو خدا نے يوں پورا کر ديا کہ اسي سال ماں جي کي شادي عبداللہ صاحب سے ہو گئي۔ ان دنون سارے علاقے مین عبداللہ صاحب کا طوطي بول رہا تھا۔ وہ ايک امير کبير گھرانے کے چشم و چراغ تھے ليکن پانچ چھ برس کي عمر ميں يتيم بھي ہو گئے اور بے حد مفلوک الحال بھي۔ جب باپ کا سايہ سر سے اٹھا تو يہ انکشاف ہوا کہ ساري آبائي جائداد رہن پڑي ہے ۔ چنانچہ عبداللہ صاحب اپني والدہ کے ساتھ ايک جھونپڑے ميں اٹھ آئے ۔ زر اور زمين کا يہ انجام ديکھ کر انہوں نے ايسي جائداد بنانے کا عزم کر ليا جو مہاجنوں کے ہاتھ گوري نہ رکھي جا سکے ۔ چنانچہ عبداللہ صاحب دل و جان سے تعليم حاصل کرنے ميں منھک ہو گئے ۔ وظيفے پر وظيفہ حاصل کر کے اور دو سال کے امتحان ايک ايک سال میں پاس کر کے پنجاب يونيورسٹي کے ميٹريکوليشن ميں اول آئے ۔ اس زمانے ميں غالبا يہ پہلا موقع تھا کہ کسي مسلمان طالب علم نے يونيورسٹي امتحان ميں ريکارڈ قائم کيا ہو۔ |
|||||
| 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 |
![]()