Free Web space and hosting from zoonic.com
Search the Web

 

 

 

روڑي کوٹنے والا انجن بھي جا چکا تھا اور کولتار کے دو تين خالي ڈرم تازہ کوٹي ہوئ سڑک پر اوندھے پڑے تھے ۔ سڑک پر سے حدت کي وجہ سے بھاپ سي اٹھتي نطر آتي تھي۔ دائي کي لڑکي خورشيد کو ديکھ کر سراج کو اپنا گائوں دھلا يا د آگيا۔ دھلے میں اسي وضع قطع، اسي چال کي سيندوري سے رنگ کي نو بالغ لڑکي حکيم صاحب کي ہوا کرتي تھي۔ ٹانسے کا برقعہ پہنتي تھي۔ انگريزي صابن سے منہ دھوتي تھي اور شايد خميرہ گائو زبان اور کشتہ مردا ريد بمعہ شربت صندل کے اتني مقدار میں پي چکي تھي کہ جہاں سے گزر جاتي سيب کے مربے کي خوشبو آنے لگتي ۔گائوںميں کسي کے گھر کوئي بيمار پڑ جاتا تو سراج اس خيال سے اس کي بيمار پرسي کرنے ضرور جاتا کہ شايد وہ اسے حکيم صاحب کے پاس دوا لينے کے لئے بھيج دے۔ جب کبھي ماں کے پيٹ میں درد اٹھتا تو سراج کو بہت خوشي ہوتي۔

حکيم صاحب ہميشہ اس نفخ کي مريضہ کے لئے دو پڑياں ديا کرتے تھے ۔ ايک خاکي پڑيا گلاب کے عرق کے ساتھ پينا ہوتي تھي اور دوسري سفيد پڑيا سونف کے عرق کے ساتھ۔ حکيم صاحب کي بيٹي عموما اسے اپنے خط پوسٹ کرنے کو ديا کتي۔ وہ ان خطوں کو لال ڈبے میں ڈالنے سے پہلے کتي دير سونگھتا رہتا تھا۔ ان لفافوں سے بھي سيب کے مربے کي خوشبو آيا کرتي تھي۔

اس وقت دائي کرموں کي بيٹي گرم دوپہر میں اس کے سامنے کھڑي تھي اور سارے ميں سيب کا مربہ پھيلا ہوا تھا۔ پانچ روپے کا نوٹ نقدي والے ٹرے میں سے اٹھا کر سراج نے چيچي نظرو ں سے خورشيد کي طرف ديکھا اور کھنکار کر بولا ۔۔۔ايک ہي سان سمیں اتنا کچھ کہہ گئي ۔ آہستہ آہستہ کہو نا۔ کيا کيا خريدنا ہے؟ايک بوتل مٹي کا تيل ۔۔۔دو سات سات صابن ۔۔۔تين پان سادہ چار ميٹھے۔ايک نلکي بٹر فلائي والي سفيد رنگ کي۔۔۔ايک بوتل سيون اپ کي۔۔جلدي کر ، گھر مہمان آئے ہوئے ہيں۔سب سے پہلے تو سراج کھٹاک سے سبز بوتل کو ڈھکنا کھولا اور بوتل کو خورشيد کي جانب بڑھا کر بولا۔ يہ تو ہو گئي بوتل اور۔۔۔بوتل کيوں کھولي تو نے۔۔اب بي بي جي ناراض ہوں گي۔ ميں تو سمجھا کہ کھول کر ديني ہے۔ میں نے کوئي کہا تھا تجھے کھولنے کے لئے۔ اچھا چھا بابا ۔۔ميري غلطي تھي۔ يہ بوتل تو پي لے ۔ميں ڈھکنے والي اور دے ديتا ہوں تجھے۔۔

جس وقت خورشيد بوتل پي رہي تھي اس وت بي بي کا چھوٹا بھائي اظہر ادھر سے گزرا۔ اسے سڑا سے بوتل پيتے ديکھ کر وہ مين بازار جانے کي بجائے الٹا چودھري کالوني کي طرف لوٹ گيا اور اين ٹائپ کے کوارٹر میں پہنچ کر بر آمدے ہي سے بولا۔ بي بي آپ يہاں بوتل کا انتظار کر رہي ہيں اور وہ لاڈلي وہاں کھوکھے پر خود بوتل پي رہي ہے سڑا لگا کر۔ بھائي تو اخبار والے کے فرائض سر انجام دے کر سائيکل پر چلا گيا ليکہن جب دو روپے تيرہ آنے کي ريزگاري مٹھي میں دبائے دوسرے ہاتھ ميں مٹي کے تيل کي بوتل اور بکل ميں سات سو سات صابن کے ساتھ سيون اپ کي بوتل لئے خورشيد آئي تو سنتو جمعدارني کے حصے کا غصہ بھي خورشيد پر ہي اترا۔ اتني دير لگ جاتي ہے تجھے کھوکھے پر ۔ بڑي بھيڑ تھي جي۔۔ سراج کے کھوکھے پر ۔۔اس وقت؟
بہت لوگون کے مہمان آئے ہوئے ہيں جي۔۔سمن آباد می ويسے ہي مہمان بہت آتے ہيں۔ سب نوکر بوتليں لے جا رہے تھے۔۔ جھوٹ نہ بول کمبخت ميں سب جانتي ہون۔ جورشيد کا رنگ فق ہو گيا۔کيا جانتي ہيں ۔ جي آپ ؟ ابھي کھوکھے پر کھڑي تو۔۔۔بوتل نہيں پي رہي تھي۔ خورشيد کي جان میں جان آئي ۔۔پھر وہ بھپر کر بولي ۔وہ ميرے اپنے پيسوں کي تھي جي۔ آپ حساب کر ديں جي ميرا۔۔ مجھ سے ايسي نوکري نہیں ہوتي۔ بي بي تو حيران رہ گئي۔سنتو کا جان گويا خورشيد کے جانے کي تمہيد تھي۔ لمحوں ميں بات يون بڑھي کہ مہمان بي بي سميت سب بر آمدے ميں جمع ہو گئے ۔ ااور کترن بھي لڑکي نے وہ زبان درازي کي کہ جن مہمان بي بي پر بوتل پلا کر رعب گانٹھنا تھا وہ اس گھر کو ديکھ کر قائل ہو گئيں کہ بد نظمي ، بے ترتيبي اور بد تميزي ميں يہ گھر حرف آجر ہے۔ انا فانا مکان ناکوراني کے بغير سونا سونا ہو گيا۔

1 2 3 4 5 6 7 8

Free Hit Counter Web Hosting