Free Web space and hosting from zoonic.com
Search the Web

 

 

 

جس رو بي بي نے پروفيسر فخر سے شادي کرنے کا فيصلہ کيا اسي روز جمالي ملک کا رشتہ بھي آگيا۔ جمالي ملک لاہور کے ايک نامي گرامي ہوٹل ميں منيجر تھے ۔ بڑي پريس کي ہوئي شخصيت تھي اپني پتلون کي کريز کي طرح ۔ اپنے چمکدار بوٹوں کي طرح جگمگاتي ہوئي شخصيت ۔ وہ کسي ٹوتھ پيسٹ کا اشتہار نطر آتے تھے۔ صاف ستھرے دانتوں کي چمک ہميشہ چہرے پر رہتي۔

جملاي ملک اپنے ہوٹل کي طرح تنظيم ، صفائي اور سروس کا سمبل تھے۔
ائر کنڈيشنڈ لابي ميں پھرتے ہوئے، مدھم بتيوں والي بار میں سر پرائز وزٹ کرتے ہوئے لفٹ کے بٹن دباتے ہوئے، ڈائننگ ہال میں وي آئي پيز کے ساتھ پر تکلف گفتگو کرتے ہوئے، ان کا وجد کٹ گلاس کے فانوس کي طرح خوبصورت اور چمکدار تھا۔

جس روز اسي بڑے ہوٹل کے بڑے منيجر نے بي بي کے خاندان کو کھانے کي دعوت دي۔ اسي روز ڈرائي کلينز سے واپسي پر بي بي کي مڈ بھڑي پروفيسر فخر کے ساتھ ہو گئي۔ وہ فٹ پاتھ پر پراني کتابوں والي دوکانوں کے سامنے کھڑے تھے اور ايک پرانا سا مسودہ ديکھ رہے تھے۔

ان سے پانچ چھ قدم دور ہر مال ملے گا آٹھ آنے والا چيخ چيخ کر سب کو بلا رہا تھا۔ ذرا سا ہٹ کر وہ دکان تھي جس میں سرخ چونچوں والے طوطے ، سرخ افريقہ کي چڑياں اور خوبصورت لقے کبتوتر غٹر غوں غٹر غوں کر رہے تھے۔ پروفيسر صاحب پر سارے بازار کا کوئي اثر نہ ہو رہا تھا اور وہ بڑا انہماک سے پڑھنے ميں مشغول تھے۔ کار پارک کرنے کي کوئي جگہ نہ تھي ۔ بالاخر محکمہ تعليم کے دفتر میں جا کر پارک کروائي اور خود پيدل چلتي ہوئي پروفيسر فخر تک جا پہنچي ۔

پراني کتابيں بيچنے والے دور تک پھيلے تھے۔ کرم خوردہ کتابون کے ڈھير تھے۔ ايسي کتابيں اور رسالے بھي تھے جنہيں امريکن وطن لوٹنے سے پہلے سيروں کے حساب سے بيچ گئے تھے اور جن کے صفحے بھي ابھي کھلے نہ تھے۔
سلام عليکم سر۔۔۔
چونک کر سر نے پيچھے ديکھا تو بي بي شرمندہ ہوگئي۔ اللہ اس پروفيسر کي آنکھ ميں کبھي پہچان کي کرن جاگے گي؟ ہر بار نئے سرے سے اپنا تعارف تو نہ کروانا پڑے گا۔
آپ اتني دھوپ ميں کھڑے ہيں سر۔۔۔
پروفيسر نے جيب سے ايک بوسيدہ اور گندہ رومال نکال کر ماتھا صاف کيا اور آہستہ سے بولے۔ ان کتابوں کے پاس آکر گرمي کا احساس باقي نہیں رہتا۔
بي بي کو عجيب شرمندگي سي محسوس ہوئي کيونکہ جب کبھي وہ پڑھنے بيٹھتي تو ہميشہ گردن پر پسينے کي نمي سي آجاتي اور اسے پڑھنے سے الجھن ہونے لگتي۔

آپ کو کہيں جانا ہو تو جي ميں چھوڑ آئوں آپ کو۔
نہيں ميرا سائيکل ہے ساتھ۔۔شکريہ۔
بات کچھ بھي نہ تھي ۔ فٹ پاتھ پر پراني کتابوں کي دکان کے سامنے ايک بے نياز چھوٹے پروفيسر کے ساتھ جس کے کالر پر ميل کا نشان تھا، ايک سر سري ملاقات تھي چند چانے بھر کي۔ ليکن اس ملاقات کا بي بي پر تو عجيب اثر ہوا۔ سارا وجود تحليل ہو کر ہوا میں مل گيا۔ کندھوں پر سر نہ رہا۔ اور پائوں ميں ہلنے کي سکت نہ رہي۔ حالانکہ پروفيسر فخر نے اس سے ايک بات بھي ايسي نہ کي جو بظاہر توجہ طلب ہوتي۔ پر بي بي کے تو ماتھے پر جيسے انہوں نے اپنے ہاتھ سے چندن کا ٹيکہ لگ ديا۔ کھوئي کھوئي سي گھر آئي اور غائب سي بڑے ہوٹل پہنچ گئي۔

جب وہ شموز کي ساتھي پہنے آئينہ خانے سے لابي میں پہنچي تو دراصل وہ آکسيجن کي طرح ايک ايسي چيز بن چکي تھي جسے صرف محسوس کيا جا سکتا ہے۔ جمالي ملک صاحب شارک سکن کے سوٹ ميں ملبوس، کالر میں کار نيشن کا پھول لگائے گھنٹوں پر کلف شدہ سرويٹ رکھے اتنے ٹھوس نظر آ رہے تھے کہ سامنے ميز پر کہنياں ٹکائے جھينگے کا پلائو اور چوپ سوئي کھانے والي لڑکي پر انہین شبہ تک نہ ہو سکا اور وہ جان ہي نہ سکے کہ مسلسل باتيں کرنے والي لڑکي دراصل ہوٹل میں موجود ہي نہیں ہے۔ اگر بي بي کي شادي جمالي ملک سے ہو جوتي تو کہاني آسنگ لگے کيک کي طرح دلاويز ہوتي۔ لفٹ کي طرح اوپر کي منزلوں کو چڑھنے والي، سوئمنگ پول کے اس تختے کي طرح جس پر چرھ کر ہر تيرنے والا سمر سولٹ کرنے سے پہلے کئي فٹ اوپر چلا جايا کرتا ہے۔

ليکن۔
شادي تو بي بي کي پروفيسر فخر سے ہو گئي۔
ڈي سي صاحب کي بيٹي کا بياہ اس کي پسند کا ہوا اور اس شادي کي دعوت ہوٹل ميں دي گئي جس کے منيجر جمالي صاحب تھے ۔ دلہن کے گھر والون نے چار ڈي لکس قسم کے کمرے دو دن پہلے بک کر رکھے تھے اور بڑے ہال می جہاں رات کا آرکشترا بجا کرتا ہے وہیں دولہا دلہن کے اعزاز میں بہت بڑي دعوت رہي۔ نکاح بھي ہوٹل ہي ميں ہوا اور رخصتي بھي ہوٹل ہي سے ہوئي ۔ ساري شادي سے ہنگامہ منقود تھا۔ ايک ٹھنڈ کا ايک خاموشي کا احساس مہمانوں پر طاري تھا۔ ٹھنڈے ٹھنڈے ہال می يخ بستہ کولڈ ڈرنکز پيتے ہوئے سرد مہر سے مہمانوں سے مل کر بي بي اپنے مياں کے ساتھ سمن آباد چلي گئي۔

ليکن اس رخصتي سے پہلے ايک اور بھي چوھتا سا واقعہ ہوا۔
نکاح سے پہلے جب دلہن تيار کي جا رہي تھي اور اسے زيور پہنايا جا رہا تھا، اس وقت بجلي اچانک فيوز ہو گئي۔ پہلے بتياں گئيں ۔ پھر ايئر کنڈيشنز کي آواز بند ہو گئي۔ چند ثانسے تو کانون کو سکون سا محسوس ہوا ليکن پھر لڑکيوں کا گروہ کچھ تو گرمي کے مارے اور کچھ موم بتيوں کي تلاش ميں باہر چلا گيا۔

بتياں پورے آدھے گھنٹے بعد آئيں ۔
اب خدا جانے يہ جمالي ملک کي اسکيم تھي يا واپڈا والوں کي سازش تھي۔ بجلي کے چلے جانے کے کوئي دس منٹ بعد بي بي کے دروازے پر دستک ہوئي۔ ڈري وہئي آواز ميں بي بي نے جواب ديا۔
کم ان ۔
ہاتھ میم شمعدان لئے جمالي ملک داخل ہوا۔
اس نے آدھي رات جيسا گہرا نيلا سوت پہن رکھا تھا۔ کالر ميں سرخ کا رنيشن کا پھول تھا اور اس کے آتے ہي تمباکو ملي کوئي تيز سي خوشبو کمرے ميں پھيل گئي۔
بي بي کا دل زور زور سے بجنے لگا۔
ميں يہ بتانے آيا تھا کہ ہمارا جنريٹر خراب ہو گيا ہے ۔ تھوڑي دير میں بجلي جائے گي۔ کسي چيز کي ضرورت تو نہیں آپ کو ؟
وہ خاموش رہي۔
ميں يہ کينڈل اسٹينڈ آپ کے پاس رکھ دوں؟
اثبات ميں بي بي نے سر ہلاديا ۔
جمالي ملک نے شمعدان ڈريسنگ ٹيبل پر رکھ ديا۔
جب پانچ موم بتيوں کا عکس بي بي کے چہرے پر پڑا اور کنکھيوں سے اس نے آئينے کي طرف ديکھا تو لمحہ بھر کو اپني صورت ديکھ کر وہ خود حيران سي رہ گئي۔
آپ کي سہيلياں کدھر گئيں ؟
وہ نيچے چلي گئي ہیں شايد۔۔۔
اگر آپ کو کوئي اعتراض نہ ہو تو ۔۔تو میں يہاں بيٹھ جائون چند منٹ ۔
بي بي نے اثبات میں سر ہلاديا۔
وہ اپولو کي طرح وجيہہ تھا ۔ جب اس نے ايک گھٹنے پر دوسرا گھٹنا رکھ کر سر کو صوفے کي پشت سے لگايا تو بي بي کو عجيب قسم کي کشش محسوس ہوئي۔ جمالي ملک کے ہاتھ میں سارے ہوتل کي ماسٹر چابنياں تھيں اور اس کي بڑي سي انگوٹھي نيم روشني میں چمک رہي تھي۔

1 2 3 4 5 6 7 8

Free Hit Counter Web Hosting