![]() |
![]() |
|
|
|
اس خاموش
خوبصورت آدمي کو بي بي نے اپنے نکاح سے آدھ گھنٹہ پہلے پہلي بار ديکھا
اور اس کي ايک نظر نے اسے اپنے اندر اس طرح جذب کر ليا جيسے سياہي چوس
سياہي کو جذب کر تا ہے ۔ نقلي پلکوں
والے بوجھل پپوٹے اٹھا کر بي بي پوچھا۔ کيسي غلطي۔ ؟ وہ سمجتھي ہيں کہ کسي بے نياز کي ڈھال میں سوراخ کر کے وہ سکون کي معراج کو پا ليں گي۔ کسے کے تقوي کو برباد کرنا خوشي کے مترارف نہیں ہے۔ کسي کے ذہد کو عجز و انکساري ميں بدل دينا کچھ اپني راحت کا باعث نہیں۔ ہاں دوسروں کے لئے احساس شکست کا باعث ہو سکتي ہے يہ بات۔ چابياں
ہاتھ ميں گھوم پھر رہي تھي۔ ذہانت اور فصاحت نادريا رواں تھا۔ مجھے
پروفيسر فخر سے محبت ہے۔ وہ چاہتي تھي کہ جمالي ملک سے کہے کہ تم کون ہوتے ہو مجھے پروفيسر کے متعلق کچھ بتانے والے۔ تمہیں کيا حق پہنچتا ہے کہ يہاں ليدر کے صوفے سے پشت لگا کر سارے ہوٹل کي ماسٹر چابياں ہاتھ میں لے کر اتنے بڑے ادمي پر تبصرہ کرو۔ ليکن وہ بے بس سنے جا رہي تھي اور کچھ کہہ نہیں سکتي تھي۔ ميں
پروفيسر صاحب سے واقف نہین ہوں ليکن جو کچھ سنا ہے اس سے يہي اندازہ
لگايا ہے کہ ۔ وہ اگر مجرو رہتے تو بہتر ہوتا۔ عورت تو خواہ مخواہ
توقعات وابستہ کر لينے والي شے ہے۔ وہ بھلا اس صنف کو کيا سمجھ پائيں
گے؟ اتنے سارے حسن کا پروفيسر صاہب کو کيا فائدہ ہوگا بھلا۔ مني پلاٹ پاني کے بغير سوکھ جاتا ہے۔ عورت کا حسن پر ستش اور ستائش کے بغير مرجھا جاتا ہے۔ کسي ذہن مرد کو بھلا کسي خوبصورت عورت کي کب ضرورت ہوتي ہے۔ اس کے لئے تو کتابو ں کا حسن بہت کافي ہے۔ شمعدان اپني پانچ موم بتيون سميت دم سادھے جل رہا تاھ اور وہ کيوٹيکس لگے ہاتھوں کو بغور ديکھ رہي تھي۔ مجھ سے بہتر قصيدہ گو آپ کو کبھي نہيں مل سکتا قمر۔ مجھ سا گھر آپ کو نہیں مل سکتا کيونکہ ميرا گھر اس ہوٹل میں ہے اور ہوٹل سروس سے بہتر کوئي سروس نہیں ہوتي اور مجھے يہ بھي يقين ہے کہ ميري باتوں پر آپ کو اس وقت يقين آئے گا جب آپ کے چہرے پر چھائياں پڑ جائيں گي۔ ہاتھ کيکر کي چھال جيسے ہو جائيں گے اور پيٹ چھاگل ميں بدل جائے گا۔ ميں تو چاہتا تھا۔ ميري تو تمنا تھي کہ جب ہم اس ہوٹل کيلابي ميں اکھٹے پہنتے ۔ جب اس کي بار مین ہم دونوں کا گزر ہوتا۔ جب اس کي گيلريون ميں ہم چلتے نطر آتے تو امريکن ٹورسٹ سے لے کر پاکستاني پيٹي بوذو تک سب ہماري خوشي نصيبي پر رشک کرتے ليکن آپ آئيڈيلسٹ بننے کي کوشس کرتي ہیں۔ يہ حسن کے لئے گرھا ہے بربادي ہے۔ ساون کي رات جيسا گہرا نيلا سوٹ، کارنيشن کا سرخ پھول اور آفٹر شيو لوشن سے بسا ہوا چہرہ بالاخر دروازے کي طرف بڑھا اور بڑھتے ہوئے بولا۔ کسي سے آئيڈيلز مستعار لے کر زندگي بسر نہیں ہو سکتي محترمہ۔۔ آدرش جب تک اپنے ذاتي نہ ہون ہميشہ منتشر ہو جاتے ہيں ۔ پہاڑوں کا پودا ريگستانوں ميں نہیں لگايا کرتا۔ اس میں تو
اتنا ہوصلہ بھي باقي نہ رہا تھا کہ آخري نظر جمالي ملک پر ہي ڈال ليتي۔
دروازے کے مدر و ہينڈل پر ہاتھ ڈال کر جمالي ملک نے تھوڑا سا پٹ کھول
ديا۔ گيلري سے لڑکيون کے ہنسنے کي آوازيں آنے لگي۔ چند لمحو ں بعد دروازہ پھر کھلا اور ادھ کھلے پٹ سے جمالي ملک نے چہرہ اندر کر کے ديکھا۔ اس کي ہلکي برائون آنکھوں ميں نمي اور شراب کي ملي جلي چمک تھي جيسے گلابي شيشے پر آہوں کي بھاپ اکھٹي ہو گئي ہو۔ مجھ سے بہتر آدمي تو آپ کو مل رہا ہے۔ ليکن مجھ سے بہتر گھر نہ ملے گا آپ کو مغربي پاکستان ميں ۔ اسي طرح
سنتو جمعدارني کے جانے پر بي بي نے سوچا تھا۔ ہم سے بہتر گھر کہاں ملے
گا کملوہي کو۔ ليکن ہوا يوں کہ جب وہ اپنے اکلوتے دس روپے کے نوٹ کو ہاتھ میں لئے بازار ميں کھڑي تھي اور سامنے ربڑ کي چپلو ں والے سے بھائو کر رہي تھي اور نہ چپلوں والے پونے تين سے نيچے اترتا تھا اور نہ وہ ڈھائي روپے سے اوپر چڑھتي تھي عين اس وقت ايک سياد کار اس کے پاس آکر رکي۔ اپنے بوائے
پھٹے پيروں کو نئي چپل ميں پھنسا تے ہوئے اس نے ايک نظر کار والے پر
ڈالي۔ |
|||||||
| 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 |
![]()